


روزنامہ خبریں اسلام آباد
روزنامہ خبریں اسلام آباد, سٹاف رپورٹر ۔ملک اسد عباس
اسلام آباد(کامرس رپورٹر)نائب امیر جماعت اسلامی پنجاب اوراسلام آباد سے سابق رکن قومی اسمبلی میاں محمد اسلم نے کہا ہے کہ میں نے رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے پانچ سال حلقہ کے عوام میں گزارے ہیں اور شہری اوردیہی علاقہ میں ریکارڈ ترقیاتی کام کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ میری کوشش سے اسلام آباد میں نئے سیکٹروں کی رکی ہوئی تعمیر دوبارہ شروع ہوگئی ہے اورتمام معطل شدہ ترقیاتی منصوبے بحال ہوگئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں پانچ سال کے دوران چاروں طرف ترقیاتی کام جاری ہیں۔ دیہی علاقہ کو پہلی بار پی ایس ڈی پی سے ترقیاتی فنڈز لے کردئے ہیں ۔46گاﺅں میں بجلی فراہم ہونے سے ہزاروں گھر روشن ہوئے ہیں۔ ہرگاﺅں میں سٹرکیں، پلیاں اورپختہ گلیاں بن رہی ہیں۔ ہم عوام کے دکھ سکھ مےں شرکت کی مثال ہیں۔ اب میرے مقابلے میں کسی کی کامیابی مشکل ہے۔ انہوں نے روزنامہ خبریں سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ حکمران اوردیگر جماعتیں میرا مقابلہ کرنے کےلئے دور دور سے امیدوار تلاش کررہی ہے لیکن میرے حلقہ میں کسی کی دال نہیں گلے گی۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے ثابت کردیا ہے کہ اسلام آباد کوآزاد خیال لوگوں کاشہر سمجھنے والوںکی سوچ غلط تھی۔ اسلام آباد اپنے نام کی طرح دینی تشخص پرفخر کرنے والوں کاشہر ہے۔ پورے ملک کی طرح اسلام آباد مےں بھی عوام کی اکثریت اپنے مسائل کے حل کےلئے اسلامی نظام کے نفاذ پریقین رکھتی ہے ۔ ہم نے پوری دنیا کے سامنے ہرایشو پر
اسلام آباد کااسلامی تشخص نمایاںکیا ہے ۔انہوں نے قومی اسمبلی مےں اپنی پارلیمانی کارکردگی کے حوالے سے کہا کہ قومی اسمبلی کے ریکارڈ کے مطابق مےں نے کسی بھی رکن قومی اسمبلی کے مقابلے مےں سب سے زیادہ تجاویز، سوالات، نوٹس اوربل پیش کئے ہےں۔مےں نے مسلسل پانچ سال تک بلاناغہ قومی اسمبلی کے ہر پرائیویٹ ممبر ڈے کے موقع پر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں،سالانہ ترقیوں، مراعات اورحقوق کے لئے آواز اٹھائی ہے۔جس کافائدہ ملک بھر کے تمام سرکاری ملازمین کوہوا ہے۔انہوں نے اپنی پانچ سالہ کارکردگی کواپنے ایمان اورعمل پریقین کانتیجہ قراردیتے ہوئے کہا کہ دفتر جماعت اسلامی میلوڈی مےں میاںاسلم پبلک سیکرٹریٹ نے اسلام آباد مےں ایک نئے سیاسی کلچر کی بنیاد رکھی ہے۔ہم مزدوری کرنے والوں کووی آئی پی کے برابر سمجھتے ہےں اوران کامسئلہ حل کرنے کے لئے خلوص دل سے دوڑ دھو پ کرتے ہےں۔ہم نے اپنے تمام غریب بھائیوں کوبرابر کادرجہ ،احترام اورعزت ووقار دیاہے۔ہمارے اخلاق کی وجہ سے اداروں کے چوکیدار اورنائب قاصد سے لے کر افسروں تک ہمارے گرویدہ ہےںانہوں نے کہا کہ ہم نے عوام کے دکھ سکھ مےں شرکت کی ذمہ داری ادا کی ہے۔شادی، جنازے،مسجد کے اجتماع، عرس اورمیلے مےںشرکت ہماری ذمہ داری ہے تاکہ ہروقت لوگوں کے درمیان رہےں اوران کے مسائل سنتے اورحل کرتے رہےں۔ہم نے سیاست کوایک خلوص اور محبت بنا دیاہے۔متحدہ مجلس عمل مےںاختلافات کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ ایم ایم اے جاگیرداروں یا جرنیلوں کی جماعت نہےںہے جس مےںحکم چلتاہو۔ اختلاف رائے ایک جمہوری عمل ہے۔ایم ایم اے مےں فیصلہ ہمیشہ اتفاق رائے سے ہوتا ہے۔انہوں نے ایم ایم اے کے مستقبل کے حوالے سے کہا کہ دینی جماعتوں کافائدہ مل کرچلنے مےںہے۔مولانا فضل الرحمن کے بارے مےںانہوںنے کہا کہ وہ ایم ایم اے کے پلیٹ فارم پر جے یو آئی کے نمائندے ہےں۔انہوں نے اپنی جماعت کی رائے کوبھی دیکھنا ہوتاہے۔اس کے مقابلے مےں جماعت اسلامی کااپنا دستور اور مزاج ہے۔ہمار ااتحاد مشترکہ دینی مقاصد کےلئے ہے۔انہوں نے جماعت اسلامی کے ووٹ بنک کے حوالے سے کہا کہ پنجاب مےں ہمارا ووٹ بنک پہلے سے بڑھا ہے۔لیاقت بلوچ کے امیر صوبہ پنجاب بننے کے بعدپنجاب مےں جماعت اسلامی کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔میاں اسلم نے نائب امیر جماعت اسلامی پنجاب کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے بتایا کہ وہ اٹک، میانوالی، بھکر، خوشاب، سرگودھا، منڈی بہاﺅالدین، جہلم ،چکوال ،راولپنڈی اوراسلام آباد کے اضلاع مےں تنظیمی، دعوتی ،تربیتی اورسیاسی سرگرمیوں کےلئے ذمہ دار ہےں ۔
انہوںنے کہا کہ جماعت اسلامی کو آئندہ الیکشن مےں اسلام آباد اورراولپنڈی کے علاوہ سرگودھا اورمنڈی بہاﺅالدین سے بھی کامیابی کی توقع ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مےں پہلے سے دگنے ووٹ حاصل کرنے کایقین ہے۔اسی طرح ضلع راولپنڈی سے قومی اورصوبائی دونوں اسمبلیوںمےں ہماری نشستےں بڑھےں گی۔انہوں نے اسلام آباد مےںترقیاتی کاموں کے حوالے سے اپنے کارکردگی بیان کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین اورانتظامیہ مےں کشمکش کی وجہ سے اسلام آباد کے نئے سیکٹروں کی تعمیر اٹھارہ سال سے رکی ہوئی تھی۔مےںنے یہ مسئلہ حل کرایا۔اب دس نئے سیکٹر شروع ہوچکے ہےں۔سب سے پہلے6جنوری 2005کومےںنے متاثرین کی طرف سے سی ڈی اے کے ساتھ معاہدہ پردستخط کئے اوراسلام آباد کی اٹھارہ سال سے رکی ہوئی تعمیر شروع ہوئی۔ یہ سی ڈی اے کی تاریخ مےںمتاثرین کے ساتھ اپنی نوعیت کاپہلا معاہدہ تھا۔جس مےں متاثرین کوایک فریق تسلیم کیا گیا تھا۔ڈی بارہ کاپی سی ون 1988مےں تیار ہوا تھا۔لیکن انتظامیہ کو زمین کا قبضہ نہےںمل رہا تھا۔ جس کی وجہ سے ایک طرف متاثرین اپنے معاوضے اوردوسری طرف الاٹیز اپنے گھر بنانے کے حق سے محروم تھے۔2002مےںمیرے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے تک حکومت دیہی علاقہ مےں کوئی ترقیاتی کام کرنے سے انکارکررہی تھی۔ حکومت کاموقف تھا کہ ماسٹر پلان کے مطابق ان دیہات کی جگہ سیکٹر تعمیر ہوں گے تو ہر چیز گرانی ہوگی۔ اس لئے آج جو خرچ کرےں گے وہ کل ضائع ہوجائے گا۔اس لئے ان دیہات کےلئے سی ڈی اے اورآئی سی ٹی دونوں کے پاس کوئی فنڈ نہےںتھا۔یہ گاﺅں اسلام آباد کاحصہ ہونے کے باوجود ڈاک خانہ، بجلی، سوئی گیس، پانی، پکی گلیوں اورسکول کی سہولت سے محروم تھے ۔ میرا موقف تھا کہ نئے سیکٹر بننے کی رفتار سست ہے ۔آئندہ کئی سال تک ان 24گاﺅں کی ایک لاکھ آبادی کو بنیادی سہولتوںسے محروم رکھنا
زیادتی ہے۔اس پر مےں نے دوسال تک سی ڈی اے ،آئی سی ٹی اوروزارت داخلہ سے مذاکرات کئے ۔ جن مےں بالآخر مجھے کامیابی ملی اور11فروری 2004کو جوائنٹ سیکرٹری وزارت داخلہ نے مجھے تحریری اطلاع دی کہ آپ کامطالبہ تسلیم ہوگیا ہے اور ان گاﺅں مےں ترقیاتی کاموںکےلئے پہلی بار پی ایس ڈی پی سے فنڈز فراہم کرنے کی منظوری مل گئی ہے ۔پہلے مرحلے مےں ترقیاتی کاموں کےلئے 8کروڑ روپے منظور ہوئے۔میر ی اس کامیابی پرحلقے کے لوگوں نے جشن منایا اورتمام دیہات مےں ترقیاتی کام شروع ہوگئے۔ 46گاﺅں جو بجلی سے روشن ہوئے ان مےں بوکڑہ، جوہد، جوڑی راجگان، دھریک موہری، شیخ پور، میرا جعفر، سنگ رال، سلطان نگر، سرائے خربوزہ، پنڈ نون، شاہ ﷲدتہ، جھنگی ، ڈھوک مکھن، سری سرال، بڈھانہ، توحید آباد، اتفاق کالونی، شاہین آباد، پراچہ ٹاﺅن، سنگ جانی مدنی محلہ اتفاق کالونی، گجر ٹاﺅن، ملت آباد، گولڑہ بارہ دری، مسلم کالونی، میراجعفر، ڈھوک عباسی، ڈھوک راجہ محبوب، ڈھوک راجہ اشرف، ڈھوک راجہ بشیر، ڈھوک بابا گوہر ، ڈھوک ملیاران، ڈھوک مسعود اشفاق ، ڈھوک کھوکھراںاورملحقہ نئی اوراضافی آبادیاں شامل ہےں۔ان لوگوں نے اپنی زندگی مےںپہلی بار اپنے گاﺅں مےںبجلی کے جلتے ہوئے بلب دیکھے۔اس طرح جو کام پچاس سال مےں نہےں ہوئے وہ پانچ سال مےںہوئے۔پانی کامسئلہ حل کرنے کےلئے لانگ ٹرم اورشارٹ ٹرم دونوں طرح کے منصوبے پیش کئے تھے۔ ایک طرف نئے ٹیوب ویلز لگائے گئے ہےںاوردوسری طرف اسلام آبا د کے لئے دریائے سندھ سے پانی لانے کےلئے غازی بیراج منصوبہ بن گیاہے۔میرے پیش کردہ اس منصوبے کی ابتدائی منظوری میر ظفرا ﷲخان جمالی نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دور مےں دی تھی۔مےں نے ان سے طویل مذاکرات کئے۔میری تجویز وفاقی کابینہ مےںپیش ہوئی ۔جس کے بعد سی ڈی اے کو فیزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے کے احکامات جاری کئے گئے۔ اس منصوبہ کی تیاری کےلئے مےںچیرمین سی ڈی اے سے لے کر چیرمین واپڈا وروزیر اعظم تک ہر سطح پر مذاکرات کئے ہےں۔شہر مےں کئی جگہ پانی اورسیوریج کی لائنےں مکس ہورہی ہےں۔آلودہ پانی سے اسلام آباد مےںہر 8واں آدمی کسی بیماری کاشکار ہے۔ مےںنے 30اپریل 2005کو اسلام آباد مےں جدید فلٹریشن پلانٹس کامنصوبہ جمع کرایا اورسی ڈی اے حکام سے مذاکرات کئے ۔ اسلام آباد سے راولپنڈی پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کےلئے میری تجویز منظوری کے بعد عمل کے مراحل مےںہے۔اس کاپی سی ٹو تیار ہوچکا ہے اور فیزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے کےلئے ایک کنسلٹنٹ کمپنی مقرر کردی گئی ہے۔2002تک اسلام آباد کی کئی مارکیٹوں اوررہائشی علاقوں مےں سٹریٹ لائٹس نہےں تھےں۔ شہر مےں 129سے زیادہ پارک ہےں۔ 2002مےں ایک پارک بھی معیار ی نہےں تھا۔اسلام آباد مےںکوئی ایم پی اے نہےںہے۔ سٹی ناظم بھی نہےںہے۔ سارا بوجھ ایم این اے پر ہے ۔ میرے دور مےںتعلیم کے شعبے مےں انقلاب آیاہے۔اب تمام سکول ماڈل سکول بنائے جائےں گے۔52بن چکے ہےں۔آئی کی پٹی مےں کوئی گرلز کالج نہےں تھا۔اب گرلز ڈگری کالج بن رہاہے۔ آئی چودہ اوربھارہ کہو مےں بھی گرلزڈگری کالج بنے گا۔چار سال پہلے اسلام آباد کے تعلیمی اداروں مےں 5ہزار 9سو نئے داخلوں کی گنجائش تھی۔ اس سال 8ہزار 9سو نئے بچوںکوداخلے لے کردئے ہےں۔ چار سال مےں چار ہزار سیٹےں بڑھائی ہےں۔ ہم نے اعلان کیا تھا کہ جو بھی ہمارے پاس آئے گا اسے داخلہ ملے گا اوریہ وعدہ پورا ہوا ۔ سرکاری ملازمین کا رول 20بحال کرایا۔ لیکن اس مےں تھوڑی بہت رکاوٹ ہے وہ بھی دور کرائےںگے۔ملک مےں سرکاری ملازمین کی تعداد تین لاکھ تراسی ہزارہے۔انہےں سیلنگ کی رقم تنخواہ کے ساتھ دینے کے لئے کیس وزیر اعظم کی میز تک پہنچادیا ہے۔سپریم کورٹ نے بھی ہمارے مطالبے کی تائید کی ہے۔اسلام آباد مےںکوئی ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال نہےں تھا۔یہ مطالبہ منظورہوگیاہے۔یہ ہسپتال ترلائی مےں بنے گا۔پے اینڈ پنشن کمیٹی اوروزارت خزانہ سے ہرسال طویل مذاکرات کئے ہےں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس اور قائمہ کمیٹیوں مےں بھی یہ مسئلہ اٹھایاہے۔ہرفورم پر اپنے حلقہ کی بھرپور نمائندگی کی ہے۔سرکاری مکانات سے اسٹیٹ آفس کاکنٹرول ختم کرایا ہے۔اب ہر محکمہ اپنے ملازمین کے لئے فیصلہ خو دکرتا ہے۔شہر کے کئی علاقے دیہات سے بری حالت مےں تھے۔آئی ایٹ ون مےںترقیاتی کام کےلئے انتظامیہ کے پاس اس لئے فنڈز نہےںتھے کہ سیکٹر تعمیر ہونے کے 20سال بعد تک اس کاپی سی ون نہےںبنا تھا۔ جو مےںنے 2005مےں تیار کرایا۔اب پورے اسلام آباد مےں انڈر پاس، بائی پاس اورفلائی اورز بن رہے ہےں۔ مےں ہر سیکٹر مےں عوام سے مل کر ایک ایک مسئلے کی نشاندہی کی ہے ۔ اور اس پر سی ڈی اے اورمتعلقہ اداروں سے مذاکرات کئے ہےں۔اسلام آباد مےں پانچ کچی آبادیاں ریگولر ہوئی ہےں۔ مکینوں کومالکانہ حقوق ملے ہےں۔ اب انہےں پانی، بجلی، گیس اورفون کنکشن مل رہے ہےں۔ہرگاﺅں مےں میری رابطہ کمیٹی قائم ہے۔جس کے باقاعدہ اجلاس ہوتے ہےں۔ ہم نے پانچ سال مےںترقیاتی کاموں کاراستہ کھول دیاہے۔ ۔جی ٹین ٹو مےں اسلام آباد مےںپہلا لیڈی پارک بن رہا ہے۔دیہی علاقہ کے تمام سکول مےںسائنس لیب بنانے کی منظوری مل گئی ہے۔اسلام آباد کے دیہات مےںگیس فراہم نہ کی گئی تو رہے سہے درختوں کانشان بھی مٹ جائے گا۔ میرے منصوبے کے مطابق ترنول، بڈھانہ، ڈھوک ملیاراں،ڈھوک قریشیاں،ڈھوک سلمان، سلطان نگر، جوڑی اورشاہ اﷲدتہ مےںگیس کےلئے سروے ہوچکا ہے۔مےں نے ڈھوک ٹمن، ڈھوک شیخاں، اوجوڑی راجگان کےلئے بھی فراہمی گیس کامنصوبہ پیش کیا ہے۔میاں اسلم نے بتایا کہ انہوں نے قومی اسمبلی مےں 1089سوالات، 169قراردادےں، 62تحاریک التوائ، 65توجہ دلاﺅ نوٹس، 52تحریکےں، 75بجٹ کٹوتی کی تحریکےںپیش کی ہےں۔جن مسائل پرقراردادےں پیش کی گئی ہےں ،ان مےںسرکاری ملازمین کومکانات الاٹمنٹ، پانچ فیصد کٹوتی کاخاتمہ، پنشن مےںاضافہ، سلیکشن گریڈ اورموور اوور کی بحالی، دیہات مےں ترقیاتی کام ڈی بارہ مےںترقیاتی کام، جیلوںمےں قیدیوںکی بہتری، سرکاری ملازمین کے بچون کےلئے تعلیمی وظائف، چھوٹے مکانوں کاپراپرٹی ٹیکس ختم کرنا، اسلام آباد کے ڈومیسائل پر صوبوں مےںملازمت کاحق دینے اورعلامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کے طلبہ وطالبات کوسہولت دینے کی قراردادےں نمایاں ہےں۔علاوہ ازےں ملک بھر مےںمہنگائی، کراچی کی صورتحال ،وانا آپریشن،اسلام آباد انڈسٹریل ایریا مےں آلودگی، پانی کی سپلائی کےلئے غازی بروتھا پراجیکٹ کےلئے توجہ دلاﺅ نوٹس پیش کئے ۔تحاریک برائے بحث مےں تعلیم پالیسی، میڈیا پالیسی، ٹرانسپورٹ سسٹم ،ڈیلی ویجز ملازمین کومستقبل کرنے کابل ، کم آمدنی ملازمین کےلئے ہاﺅسنگ سکیم پر عمل کےلئے تحاریک پیش کےں۔جو بل پیش کئے گئے ان مےں غیرا خلاقی اشتہارات کی ممانعت، شادی کی تقریبات مےں اسلحہ کی نمائش روکنے ، خواتین کے لئے مساوی حقوق، اورقانون کرایہ داری کے بل سمیت 12بل شامل ہےں۔التوا ءکی تحریکوں مےں فوجیوں کوزرعی زمینوں کی الاٹمنٹ ، ملازمین کےلئے انکریمنٹ، ایف سیکٹر، جی سیون، جی ایٹ جی نائن جی ٹین، جی الیون، آئی ایٹ ،آئی نائن، آئی ٹین اوردیہی علاقہ مےںپانی کی قلت، مہنگائی، پنشن اورتنخواہ کے مسائل شامل ہےں۔ سرکاری ملازمین سفید پوش طبقہ ہے۔جسے ریلیف نہ ملا تو ملک کانظام نہےںچل سکتا۔اسلام آباد کے تاجروں کے مسائل حل کرنے اورہر مارکیٹ کو سہولتوں سے مزین کرنے مےں کامیابی ہوئی ہے۔ قومی اسمبلی مےں قانون کرایہ داری بل پیش کرکے ایک بڑامسئلہ حل کرنے کی کوشش کی ہے۔