


تعارف
تعارف : میاں محمد اسلم
نائب امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں اسلم 30سال سے اسلام آباد میں ایک سماجی اورسیاسی کارکن اور رہنماءکی حیثیت سے سرگرم عمل ہیں۔وہ 2002 کے انتخابات میں NA-48 اسلام آباد سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور پانچ سال تک قومی اسمبلی میں اسلام آباد کے عوام کی نمائندگی کاحق ادا کیا۔ جس کے نتیجے میں آج اسلام آباد میں میاں محمد اسلم ایک معروف اور محبوب نام ہے۔
میاں اسلم کاکہنا ہے کہ میرا نصب العین اسلامی نظام زندگی اور ﷲتعالیٰ کی رضا کاحصول ہے اور زندگی میں کامیابی کے لئے اخلاق، دیانت ،خدمت اورجرات پر یقین ہے۔
میاں اسلم کے مطابق اسلام آباد کے دیہی علاقہ کے لئے پہلی بار ترقیاتی بجٹ کی منظور ی ان کی ایک بڑی کامیابی ہے ۔جس کے نتیجے میں46 گاﺅں کوبجلی ملی اورہرگاﺅں میں مستقل بنیادوں پرترقیاتی کام شروع ہوئے۔ اسی طرح ان کی کوششوں سے اسلام آباد کے سیکٹروں کی رکی ہوئی تعمیردوبارہ شروع ہوئی اور انہوں نے متاثرین کی طرف سے سی ڈی اے کے ساتھ معاہد ہ پر دستخط کئے۔جس کافائدہ الاٹیز اورمتاثرین دونوں کو ہوا۔
میاں اسلم قومی اسمبلی میں 2002 سے2007 تک وزارت داخلہ اور واٹر اینڈ پاور کی قائمہ کمیٹیوں کے رکن رہے اور ان کی توجہ سے سرکاری ملازمین ا ور اسلام آباد کے عوام کے کئی سال سے زیر التوا مسائل حل ہوئے ۔ اس دوران انہوں نے دفتروں کی فائلوں میں کئی برسوں سے دبے ہوئے سینکڑوں منصوبے نکال کر عمل کے میدا ن تک لانے میں کامیابی حاصل کی ۔
قومی اسمبلی کے ریکارڈ کے مطابق میاں اسلم نے کسی بھی رکن قومی اسمبلی کے مقابلے میں سب سے زیادہ تجاویز، سوالات، نوٹس اوربل پیش کئے۔ میاں اسلم کی طرف سے 1089سوالات، 169قراردادیں، 62 تحاریک التواء، 65 توجہ دلاﺅ نوٹس، 52تحریکیں، 105بجٹ کٹوتی کی تحریکیں قومی اسمبلی کے ریکارڈ کاحصہ ہیں ۔ سرکاری ملازمین کے حق میں سب سے زیادہ بجٹ تجاویز بھی میاں اسلم نے پیش کیں اور تاجروں کے مسائل حل کرانے کے لئے رینٹ کنٹرول میں ترمیم کابل بھی پیش کیا۔ ایک سیاسی رہنماءکی حیثیت سے میاں اسلم نے شہری مسائل، تعلیم، صحت،پانی، بے روزگاری اورغربت کے ایشوز پر بہتری کے لیے اپنی خدمات سے اپنا نام بنایا ہے۔
میاں اسلم کے خاندان کاتعلق فیروز پور سے ہے۔ ان کے دادا چوہدری محمد ابراہیم ایک زمین دار تھے جو1947میں قیام پاکستان کے وقت فسادات میں سکھوں کے ہاتھوں شہید ہوگئے تو ان کاخاندان اپنے آبائی گاﺅں "صدر خان داکوٹ" سے ہجرت کرکے پہلے والٹن کیمپ لاہور اور پھر خانیوال کے ایک گاﺅں 'چک نانک' میں آگیا۔
میاں اسلم 1954میں خانیوال کے گاؤں چک نانک میں پیدا ہوئے ۔ان کے والدچوہدری فتح محمد زمین دار تھے ، اس لیے میاں اسلم کی ابتدائی تربیت گاﺅں کے ماحول میں ہوئی۔ انہوں نے 1978میں زرعی یونی ورسٹی فیصل آباد سے ایم ایس سی کی اور کچھ عرصہ حکومت پنجاب میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت رہے۔1981میں ملازمت چھوڑ کر راولپنڈی میں بڑے بھائی ڈاکٹر محمد صادق کے ساتھ پولٹری کی صنعت سے وابستہ ہوگئے ۔
میاں اسلم نے سیاسی اور سماجی خدمت کا آغاز فیصل آباد زرعی یونی ورسٹی میں اسلامی جمیعت طلبہ کے پلیٹ فارم سے کیا اور طلبہ تحریکوں میں حصہ لیا۔ 1985میں اسلام آباد سے جماعت اسلامی کے رکن بنے۔ 1998 سے مرکزی مجلس شورٰی اور 2004سے مرکزی مجلس عاملہ کے رکن ہیں۔ 2002 سے 2006 تک جماعت اسلامی ضلع اسلام آبا د کے امیر رہے اور 2003سے جماعت اسلامی پنجاب کے نائب صوبائی امیر ہیں۔ اس کےعلاوہ جماعت اسلامی کی مرکزی مالیاتی کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔ اسلام آباد میں میاں اسلم الخدمت فاﺅنڈیشن اور اقراءفاﺅنڈیشن سمیت کئی سماجی اور فلاحی تنظیموں کےسرپرست اور سربراہ ہیں۔
2002 کے انتخابات میں میاں اسلم NA-48 اسلام آباد سے متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر بھاری اکثریت سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ ان کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے سنیٹر ڈاکٹر بابر اعوان، مسلم لیگ ن کے مرکزی نائب صدر اور سابق ایم این اے سید ظفر علی شاہ، تحریک انصاف کے سابق ایم این اے احمد رضا خان قصوری اور سابق وفاقی وزیر حاجی حنیف طیب جیسے اہم سیاستدان تھے۔ اپنی عوامی خدمات کے باعث 2007 کے انتخابات میں بھی میاں اسلم کی کامیابی یقینی تھی لیکن جماعت اسلامی کی طرف سے بائی کاٹ کے فیصلے کی وجہ سے انہوں نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔ ان کاکہنا ہے کہ میرے لیے قومی اسمبلی کی رکنیت سے زیادہ جماعت اسلامی کی رکنیت اہم ہے۔
میاں اسلم نے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے سے قبل دفتر جماعت اسلامی میلوڈی میں اپنا پبلک سیکرٹریٹ قائم کیا جو گذشتہ چھ سال سے چوبیس گھنٹے عوام کی خدمت کے لیے کھلا رہتا ہے۔ اسی طرح اسلام آباد میں میاں اسلم کی رہائشگاہ الفلاح ہال سماجی اور دینی جماعتوں کی تنظیمی سرگرمیوں کامرکز ہے۔ میاں اسلم نے اسلام آباد میں ایک بااخلاق ،وضع دار اور دوسروں کا غم بانٹنے والے مخلص، متحرک اورباصلاحیت سیاسی رہنماءکی حیثیت سے اپنا تشخص بنایا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کے پاس مسائل کے حل کے لیے آنے والے عوام کاتانتا بندھا رہتا ہے۔ میاں اسلم کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے پاس مسئلہ لے کر آنے والے کی سیاسی وابستگی کیا ہے۔ اس لئے ان کے پبلک سیکرٹریٹ میں ہر سیاسی،سماجی اوردینی تنظیم کے کارکنوں کامجمع لگا رہتا ہے۔ میاں اسلم کاکہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے کارکن کی حیثیت سے یہ ان کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ سب کے مسائل حل کریں۔ اس لئے ان کے دفتر اورگھر کے دروازے عوام کے لئے ہمہ وقت کھلےہیں۔
۔