


دیہی علاقہ کے لیے پہلی بار ترقیاتی فنڈز
گولڑہ اور ترنول کے علاقے وفاقی دارلحکومت میں شامل ہیں لیکن حکومت اس علاقے کے گاﺅں میں ترقیاتی کاموں کے لیے تیار نہیں تھی۔ اسلام آباد کے پہلو میں آباد یہ گاؤں صدیوں پرانے ماحول کامنظر پیش کررہے تھے۔ حکومت کاموقف تھا کہ ماسٹر پلان کے مطابق ان دیہات کی جگہ سیکٹر تعمیر ہوں گے تو ہر چیز گرانی ہوگی۔ اس لئے آج جو خرچ کریں گے وہ کل ضائع ہوجائے گا۔ اس لئے ان دیہات کےلئے سی ڈی اے اورآئی سی ٹی دونوں کے پاس کوئی فنڈ نہیں تھا۔ یہ گاﺅں اسلام آباد کاحصہ ہونے کے باوجود ڈاک خانہ، بجلی، سوئی گیس، پانی، پکی گلیوں اور سکول کی سہولت سے محروم تھے ۔
میاں اسلم نے اس مسئلہ پر قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کی ۔ جس میں انہوں نے اسلام آباد کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ موقف پیش کیا کہ نئے سیکٹر بننے کی رفتار سست ہے۔ اس لیے آئندہ کئی سال تک ان گاﺅں کی ایک لاکھ سے زائد آبادی کو بنیادی سہولتوں سے محروم رکھنا زیادتی ہے۔ اس پر انہوں نے دوسال تک سی ڈی اے ،آئی سی ٹی اور وزارت داخلہ سے مذاکرات کئے ۔ جن میں بالآخر انہیں کامیابی ملی اور11فروری 2004کو جوائنٹ سیکرٹری وزارت داخلہ نے میاں اسلم کو تحریری اطلاع دی کہ آپ کامطالبہ تسلیم ہوگیا ہے اور ان گاﺅں میں ترقیاتی کاموں کے لئے پہلی بار پی ایس ڈی پی سے فنڈز فراہم کرنے کی منظوری دی جارہی ہے ۔ پہلے مرحلے میں ترقیاتی کاموں کےلئے 8کروڑ روپے منظور کرائے گئے۔ میاں اسلم کی اس کامیابی پرحلقے کے لوگوں نے جشن منایا اورتمام دیہات میں ترقیاتی کام شروع ہوگئے۔ اب ہرگاﺅں میں سٹرکیں، پلیاں اورپختہ گلیاں بن رہی ہیں۔ترقیاتی فنڈز کی راہ میں رکاوٹ دور ہونے کے بعد دیہی علاقہ کوہرسال کروڑوں روپے کے فنڈز ملناشروع ہوگئے ہیں اور ہرسال ترقیاتی کاموں میں اضافہ ہورہا ہے۔




















