نئےسیکٹروں کی رکی ہوئی تعمیر دوبارہ شروع ہو گئی
      اسلام آباد کے نئے سیکٹروں کی تعمیر انتظامیہ اور متاثرین میں کشمکش کے باعث اٹھارہ سال سے رکی ہوئی تھی۔ ڈی بارہ کاپی سی ون 1988میں تیار ہوا تھا لیکن متاثرین سے اختلافات کی وجہ سے انتظامیہ کو زمین کا قبضہ نہں مل رہا تھا۔ جس کے نتیجے میں ایک طرف متاثرین اپنے معاوضے اور دوسری طرف الاٹیز اپنے گھر بنانے کے حق سے محروم تھے۔

میاں اسلم نے 2002میں ایم این اے منتخب ہوتے ہی نئے سیکٹروں کی رکی ہوئی تعمیر دوبارہ شروع کرانے کے لیے دوڑدھوپ شروع کردی۔ میاں اسلم نے ڈی بارہ کامسئلہ قومی اسمبلی کے فورم پرپیش کیا اور وزارت داخلہ اورچیئرمین سی ڈی اے سے طویل مذاکرات کے      بعد انتظامیہ کومتاثرین سے مذاکرات اورمعاہدہ کے لیے رضامند کرلیا۔
متاثرین نے میاں اسلم کے اس خلوص اوردیانت کااعتراف کرتے ہوئے انہیں اپنے منتخب نمائندے کی حیثیت سے ثالث مقررکیا اور متاثرین کی طرف سے انتظامیہ کے ساتھ معاہد ے کااختیار دیا۔6جنوری 2005 کومیاں اسلم نے چیئرمین سی ڈی اے کے دفتر میں ہونے والی تقریب میں متاثرین کی طرف سے سی ڈی اے کے ساتھ ایک تاریخی معاہدہ پردستخط کئے ۔
    اس طرح میاں اسلم نے ڈی بارہ کی ڈیویلپمنٹ کے لیے پیکج ڈیل کرائی ۔ جس سے متاثرین کوان کے حقوق ملے ۔اس معاہدے کے بعدمتاثرین نے سی ڈی اے کوزمین کاقبضہ دے دیا اور ڈی بارہ کی رکی ہوئی تعمیر شروع ہوگئی۔اب ترقیاتی کام مکمل ہونے کے بعد الاٹیز کو پلاٹوں کاقبضہ مل جائے گا ۔
      یہ سی ڈی اے کی تاریخ میں متاثرین کے ساتھ اپنی نوعیت کاپہلا معاہدہ تھا۔ جس میں انتظامیہ نے متاثرین کوایک فریق تسلیم کیا۔ اس طرح میاں اسلم کی کوششوں سے اسلام آباد کی اٹھارہ سال سے رکی ہوئی تعمیردوبارہ شروع ہوگئی اورتمام معطل شدہ ترقیاتی منصوبے بھی بحال ہوگئے۔
     ڈی بارہ کے بعد میاں اسلم نے جی 14کی تعمیر کے لیے متاثرین کو پانچ لاکھ نوے ہزار روپے فی کنال قیمت اور بلڈ اپ پراپرٹی کے بدلے پلاٹ کامعاہدہ کرایا۔
    اسی طرح میاں اسلم نے آئی چودہ ،پندرہ اورسولہ کی سروس روڈ کے متاثرین کا چالیس سال پرانامسئلہ بھی حل کرایا۔ جس سے متاثرین کومعاوضہ اور پلاٹ ملے اورانتظامیہ نے ترقیاتی کام شروع کیا۔