


قومی اسمبلی سے میاں اسلم کاخطاب, بجٹ پر بحث
بجٹ بنانے والے اﷲکاخوف کریں سرکاری ملازمین ملک کامجبور طبقہ ہےمیرا حلقہ اسلام آباد پانی کی شدید کمی کا شکار ہےاسلام آباد کے گاﺅں میں پختہ گلیوں،بجلی، صحت ، گیس اورتعلیم کے لئے فنڈز دئے جائیں بجٹ حکومت کے گذرے ہوئے سال کی کارکردگی کاجائزہ اور آئندہ سال کی سرگرمیوں کاعکاس ہوتا ہے کہ حکومت نے عوام کی زندگی کو کتنا آسان اور خوش حال بنایا ہے اور کتنا مزید بنانا چاہتی ہے۔
اس بجٹ میں 390 ارب روپے ورلڈ بنک سے قرض لے کر حکومت کہہ رہی ہے کہ کشکول توڑ دیاگیاہے۔
600 ارب روپے کاتجارتی خسارہ ہے اور کہا گیا ہے کہ تجارتی پالیسی بہتر ہے۔
زرعی پیداور میں نمو صرف 2.3 فی صد ہے اور حکومت کادعوی ہے کہ زرعی پالیسی بہتر ہے۔
یہ تو جنگل کے بادشاہ والی بات ہے کہ اس کی مرضی ہے کہ وہ انڈہ دے یا بچہ دے۔
زمینی حقائق یہ ہیں کہ بجٹ کے بعد اخبارات کے صفحہ اول پر شائع ہونے والی ایک تصویر میں لوگوں کا اژدھام ہے۔ پہلی نظر میں ملین مارچ لگتا ہے لیکن یہ یوٹیلیٹی سٹور کے باہر چینی اور دال تلاش میں ٹھوکریں کھاتے ہوئے عوام کاہجوم ہے۔ یہ اس بجٹ کا پہلا شاخسانہ ہے کہ حکومت نے عوام کی زندگی کتنی مشکل بنا دی ہے۔
ملک میں 356یوٹیلیٹی سٹورز ہیں اگر انہیں پندرہ کروڑ عوام پر تقسیم کیاجائے تو حاصل تقسیم کیا آتا ہے۔ کیا کروڑوں عوام چند سو یوٹیلیٹی سٹوروں سے روزمرہ استعمال کی اشیاء ارزاں قیمت پر خرید سکتے ہیں۔ اس سے بڑا مذاق اور لطیفہ عوام سے کیا ہوسکتا ہے۔
بجٹ بنانے والے اﷲکاخوف کریں۔ روزمرہ اشیاء سے جی ایس ٹی ختم کریں اور اشیاءکی فراہمی بہتر بنائیں تاکہ عوام کو پورے ملک میں ہر چھوٹی بڑی دوکان سے روزمرہ اشیاء وافر اور ارزاں قیمت پر مل سکیں۔
سرکاری ملازمین ملک کامجبور طبقہ ہے۔ جومہنگائی سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔کئی سو فیصد مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے لیکن مہنگائی الاﺅنس صرف پندرہ فی صد ہے۔ یہ ملازمین کے زخموں پر نمک پاشی ہے۔ یہ علامتی مہنگائی الاﺅنس بھی تنخواہ کاحصہ نہیں بنایا گیا۔ یہ ایک لطیفہ بجٹ کادوسرا لطیفہ ہے۔ ایک نچلے درجے کے ملازم کی تنخواہ میں صرف 322 روپے اضافہ ہوگا۔ اب بتائیے ،گنجی نہاﺅ گی کیا اور نچوڑو گی کیا۔ میری گذارش ہے کہ گریڈ ایک تا سولہ، پچاس فی صد مہنگائی الاﺅنس دیا جائے۔تاکہ نہانے اور نچوڑنے کاکچھ ساماں ہوسکے ۔
اس سے بڑا لطیفہ کیا ہوسکتا ہے کہ1977سے قبل ریٹائرڈ ہونے والوں کی پنشنوں میں 20 اضافہ کیا گیا ہے۔ 90سال عمر کے کتنے ریٹائرڈ ملازمین بقیدحیات ہیں۔ کیا یہ بیس فی صد اضافہ گزرے ہوئے ریٹائرڈ ملازمین کی روح کوتسکین پہنچانے کے لئے ان کی قبروں پر کتبوں کی صورت میں لگایا جائے گا۔
مہنگائی الاﺅنس کو تنخواہ کاحصہ بنایا جائے تاکہ اس تناسب سے ریٹائرڈ ہونے والوں کی پنشن میں اضافہ ہو۔
سرکاری مکان کم ہونے کی وجہ سے سرکاری ملازمین انتہائی مشکلات کاشکار ہیں۔ جن ملازمین کوسرکاری مکان نہیں ملے انہیں سیلنگ کی رقم تنخواہ کے ساتھ ادا کی جائے تو رہائش کامسئلہ حل ہوجائے گا۔ ہماری پیش کردہ یہ تجویز دوسال سے وزیر اعظم کی میز پر ہے ۔ اس پر عمل کی گذارش ہے۔
سرکاری ملازمین کوریٹائرمنٹ کے بعد چھ ماہ کی بجائے ایک سال سرکاری مکان رکھنے کی اجازت دی جائے تا کہ وہ متبادل رہائش کابندوبست اور اپنے زیر تعلیم بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کااہتمام کرسکے۔
ایک غریب سرکاری ملازم کو سرکاری کوارٹر الاٹ ہوتا ہے تو اس کی تنخواہ سے پانچ فی صد کٹوتی شروع کردی جاتی ہے۔ یہ ناانصافی ہے ۔ سرکاری کواٹر رکھنے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے پانچ فی صد کٹوتی ختم کی جائے تاکہ سرکاری ملازمین کوکچھ تو سہولت ملے۔ ایوان صدر ،ایوان وزیر اعظم اور ان سے ملحقہ اداروں کے ملازمین اس کٹوتی سے مستثنٰی ہیں بلکہ انہیں مزید مراعات بھی ہیں۔
سرکاری مکانات کی الاٹمنٹ میرٹ پر کی جائے۔ وزیر ہاﺅسنگ نے ایوان میں ایک سوال کے جواب میں بتایا تھا کہ حکومت نے 743مکانات آﺅٹ آف ٹرن اور صرف 104 میرٹ پر الاٹ کئے ہیں۔ یہ میرٹ کا شرمناک قتل ہے۔ آﺅٹ آف ٹرن مکانات صرف معذور ملازمین کوالاٹ کئے جاسکتے ہیں۔ کیا 84فی صد لوگ معذور ہوچکےہیں۔ آﺅٹ آف ٹرن مکانات الاٹ کرنے کا اختیار ختم ہونا چاہئے یا اس کے لئے بااختیار کمیٹی بنائی جائے۔
Incentivesملازمین میں کام کرنے کاجذبہ اور ولولہ پیدا کرتا ہے۔ سلیکشن گریڈ اور موو اوور سے ملازمین کومحروم کر کےجذبے اور ولولے ختم کرنے کی سازش کی گئی ہے۔ سلیکشن گریڈ اور موو اوور بحال کر کے اس سازش کو ختم کیا جائے تاکہ ملازمین اطمینان قلب اور یکسوئی سے پاکستان کی ترقی اور Prosperityمیں حصہ لے سکیں۔
ہزاروں ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجی افسروں کو سول محکموں میں لگانا سول ملازمین کی حق تلفی اور ان کے لطیف جذبات کاخون ہے۔ بہت ہوچکی۔ حق تلفی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ اب یہ سلسلہ ختم ہونا چاہئے۔ ذہین اور فطین سول افسروں کے حقوق کی پامالی پاکستان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ برڈ فلو کرائسس کے بعد حکومت نے پولٹری فیڈ کے اجزاء سے ڈیوٹی اور سیل ٹیکس ختم کرکے پولٹر ی انڈسٹری کی مدد کی ہے لیکن پولٹری فیڈ کے کئی اجزاء D-calcium phosphate ، phosphate Mono Calcium
Magneese Sulphate, اور Magneese oxide کانام اس فہرست میں نہیں ہے۔ ان پر بھی ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس ختم کیا جائے۔
میرا حلقہ پاکستان کادارالحکومت اسلام آباد پانی کی شدید کمی کا شکار ہے اور پانی کی راشننگ معمول بن گیا ہے۔ سملی ،خانپور اور ٹیوب ویلز سے پانی کی ضرورت پوری نہیں ہورہی۔ کئی سالوں کی کوششوں کے بعد غازی بیراج سے پانی لانے کامنصوبہ فائنل ہو چکا ہے۔ اس کے لئے فنڈ دیا جائے۔ ورنہ مستقبل میں پانی کی کمی کے باعث لوگ اسلام آباد سے نقل مکانی پر مجبور ہوجائیں گے۔
اسلام آباد کی سٹرکوں پر روزانہ دو لاکھ تیس ہزار گاڑیاں چلتی ہیں۔ چاروں مین روڈوں پر ٹریفک جام رہتی ہے۔ اسلام آباد میں ٹریفک جام ایک بدنما داغ ہے۔ اس کاحل یہ ہے کہ شہر کی چاروں مرکزی شاہراہوں جناح ایونیو،فیصل ایونیو،شاہرہ کشمیر اور سپر ہائی وے سے تمام ٹریفک اشارے ختم کرکے ہر چوک پر ضرورت کے مطابق انڈر پاس، فلائی اوور یا انٹر چینج بنائے جائیں تاکہ ٹریفک رواں دواں رہ سکے۔
وزیر اعظم پورے ملک کے لئے کھربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کااعلان کررہے ہیں۔ اسلام آباد کے گاﺅں ابھی تک سٹرکوں، پختہ گلیوں،بجلی،مراکز صحت ،سوئی گیس، تعلیمی اداروں اور دوسری سہولتوں سے محروم ہیں۔ اس کے لئے خصوصی فنڈز دئے جائیں۔
ریٹائرڈ ملازمین کے لئے ہر ہسپتال میں الگ شعبہ بنایا جائے اور انہیں لوکل پرچیز پر میڈیسن کی سہولت دی جائے۔
60سال سے زیادہ عمر کے تمام سرکاری ملازمین کو فری ریلوے پاس اور ہوائی سفر میں تیس فیصد رعائت دی جائے۔
حکومت1976کےسوشل سیکورٹی ایکٹ میں تبدیلی کرکے ادارے کی رجسٹریشن کی کم ازکم شرط 10کی بجائے 20 مزدور کرناچاہتی ہے۔ اس سے اولڈ ایج بینیفٹ کی رقم کم ہوجائے گی اور لوگ بے روزگار ہوں گے اور ادارے سے مستفید ہونے والوں کی تعداد بھی کم ہوجائے گی۔ اس ایکٹ میں تبدیلی نہ کی جائے۔ یہ مروجہ اصول و ضوابط اور انصاف کے منافی ہے۔ یہ ادارہ حکومت سے کوئی امداد نہیں لیتا۔
اسلام آباد میں ویگنیں عوام کی آمدورفت کی ضرورت سے کم ہیں۔ اس لئے بڑی بسیں چلائی جائیں۔
مہنگائی کے اس دور مں سرکاری ملازمین کے لئے ایک بڑا مسئلہ بچوں کے تعلیمی اخراجات ہیں۔ اس لئے میری تجویز ہے کہ ایک سے دس گریڈ کے ملازمین کے بچوں کے تعلیمی اخراجات حکومت برداشت کرے تا کہ چھوٹے درجے کے ملازمین اپنے بچوں کو بہتر تعلیم کے زیور سے آراستہ کرسکیں۔
ضلع اسلام آباد کے عوام کے لئے کوئی ہسپتال نہیں۔ پمز پورے ملک اور پولی کلینک صرف سرکاری ملازمین کے لئے ہے۔ اس لئے ضلع اسلام آباد کے عوام کے لئے ایک ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بنایا جائے ۔ اس کے علاوہ آئی سیکٹر، ایچ سیکٹر، جی ٹین اور جی الیون میں عام لوگوں کے لئے مقامی سٹی ہسپتال بنائے جائیں۔
حکومت نے گریڈ ایک تا چار کے ملازمین کے لئے حج کا کوٹہ ختم کردیا ہے۔ یہ ظلم ہے۔ یہ کوٹا بحال کیا جائے تا کہ یہ غریب سرکاری ملازمین فریضہ حج کی ادائیگی، خانہ کعبہ اور روضہ رسولﷺ کی زیارت کی سعادت حاصل کرسکیں۔ # Wednesday, June 14, 2006
( قومی اسمبلی کی کاروائی سے اقتباس)
۔